غزل

ردیف الف

  1. شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کا
  2. جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا
  3. عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیا

ردیف ر

  1. نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند
  2. جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر

ردیف م

  1. کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم

ردیف ن

  1. میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں
  2. دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں

ردیف و

  1. پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہو

ردیف ی

  1. میں برا ہی سہی بھلا نہ سہی
  2. کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی
  3. تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے
  4. پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیے
  5. کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے
  6. جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہے
  7. باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطے