کس بزم میں شمع تو نہیں ہے

ردیف: نہیں ہے

کس بزم میں شمع تو نہیں ہے

کس جا تری گفتگو نہیں ہے

کس رنگ میں جلوہ گر نہیں تو

کس پھول میں تیری بو نہیں ہے

ہے پردۂ چشم پردۂ دید

کس وقت وہ روبرو نہیں ہے

دیدار کی ہے فقط تمنا

دل میں اور آرزو نہیں ہے

خوبی تری جلوہ گر ہے دل میں

یہ آئنہ عیب جو نہیں ہے

سامان نشاط سب ہیں بے کار

محفل میں جو ایک تو نہیں ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · عنایت اللہ روشن بدایونی