دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (۱۹۲۰)

ردیف الف

  1. یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا
  2. تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا
  3. سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا
  4. نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا
  5. کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا
  6. الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرا
  7. گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ
  8. عقل کو چھوڑ عشق میں آ جا
  9. عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا
  10. عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا
  11. آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا

ردیف ب

  1. غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب

ردیف ت

  1. اپنے سے بے سمجھ کو حق کی کہاں پچھانت

ردیف خ

  1. مرغ زیرک عقل کا ہے عشق کا صیاد شوخ

ردیف ر

  1. تو ہے کس منزل میں تیرا بول کھاں ہے دل کا ٹھار
  2. حسن کا دیکھ ہر طرف گل زار
  3. دیا ساقی لبالب مجھ کو ساغر

ردیف ل

  1. پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل

ردیف م

  1. عشق آ ہم سوں کیا جب رام رام

ردیف ن

  1. دل بر کو دلبری سوں منا یار کر رکھوں

ردیف و

  1. یار جب نینوں میں آیا ہو بہ ہو
  2. راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو
  3. لگا کر عشق کا کجرا نین کو
  4. عقل جزوی چھوڑ کر اے یار فکر گل کرو

ردیف ہ

  1. رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ
  2. نور حق بے حجاب عشق اللہ
  3. اب تلک حق نہیں پچھانے واہ واہ

ردیف ی

  1. پیا کے رخ کی جھلک کا پرتو کیا ہے جھلکار آفتابی
  2. لا مکاں لگ عاشقاں کے عشق کا پرواز ہے
  3. خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
  4. جب پیارا گلہ سناتا ہے
  5. بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھے