دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (۱۹۲۰)
ردیف الف
- یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا
- تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا
- سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا
- نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا
- کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا
- الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرا
- گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ
- عقل کو چھوڑ عشق میں آ جا
- عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا
- عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا
- آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف خ
ردیف ر
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
ردیف و
- یار جب نینوں میں آیا ہو بہ ہو
- راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو
- لگا کر عشق کا کجرا نین کو
- عقل جزوی چھوڑ کر اے یار فکر گل کرو