نمود زندگی (۱۹۴۰)

ردیف الف

  1. عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا
  2. جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا
  3. پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا
  4. حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا
  5. اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا
  6. گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا
  7. فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا
  8. راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا
  9. برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا
  10. غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا

ردیف ر

  1. لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور

ردیف ن

  1. حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں

ردیف ی

  1. اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے
  2. جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے
  3. ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے