نمود زندگی (۱۹۴۰)
ردیف الف
- عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا
- جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا
- پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا
- حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا
- اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا
- گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا
- فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا
- راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا
- برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا
- غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا