غزل

ردیف الف

  1. نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا
  2. لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہا
  3. یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا
  4. زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا

ردیف ت

  1. کون سنتا ہے صرف ذات کی بات
  2. یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت

ردیف ر

  1. ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر

ردیف ز

  1. زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز

ردیف ص

  1. ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخص

ردیف ک

  1. ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک

ردیف م

  1. رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم

ردیف ن

  1. یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں
  2. رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں
  3. نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں

ردیف و

  1. شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو
  2. شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو
  3. کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہو
  4. نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو
  5. سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو

ردیف ھ

  1. دور تک روشنی ہے غور سے دیکھ

ردیف ی

  1. جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے
  2. فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے
  3. نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے
  4. یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے
  5. کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے