غزل
ردیف الف
- نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا
- لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہا
- یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا
- زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا
ردیف ت
ردیف ر
ردیف ز
ردیف ص
ردیف ک
ردیف م
ردیف ن
- یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں
- رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں
- نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں
ردیف و
- شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو
- شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو
- کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہو
- نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو
- سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو