غزل
ردیف الف
- جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا
- جام خالی جہاں نظر آیا
- چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا
- دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا
- دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا
- رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا
- دل کا چھالا پھوٹا ہوتا
- کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا
ردیف ر
ردیف ن
- کاش سنتے وہ پر اثر باتیں
- مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں
- دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں
- تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں
- یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں
- ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں
- وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں
- مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں
- بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں
- دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں
- دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں
ردیف و
- بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو
- انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنو
- پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو
ردیف ی
- اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی
- غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری
- نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی
- سامنے آئنہ تھا مستی تھی
- میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی
- کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی
- ہجر کی رات یاد آتی ہے
- اس وہم کی انتہا نہیں ہے
- کام دنیا میں بہت کرنا ہے
- واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے
- عشق جو معراج کا اک زینہ ہے
- بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے
- یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے
- جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے
- حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے