کوئی رسوا کوئی سودائی ہے

ردیف: ہے

کوئی رسوا کوئی سودائی ہے

اک جہاں آپ کا شیدائی ہے

صحبت غیر سے بچئے بچئے

دیکھیے دیکھیے رسوائی ہے

ہر ادا میں ہے حیات جاوید

ہر اشارہ میں مسیحائی ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · عزیز حیدرآبادی