غزل
ردیف الف
- تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا
- کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا
- فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا
- گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا
- میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا
- ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا
- یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا
- نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گا
- تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جا
- دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا
ردیف ب
ردیف ث
ردیف ر
ردیف ز
ردیف ش
ردیف ظ
ردیف ق
ردیف ن
ردیف و
ردیف ی
- پوچھی نہ خبر کبھی ہماری
- جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی
- بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی
- چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی
- ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری
- آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے
- سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے
- دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہے
- باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے
- کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے
- نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے
- ذات اس کی کوئی عجب شے ہے
- غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے
- محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
- غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے