غزل

ردیف الف

  1. تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا
  2. کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا
  3. فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا
  4. گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا
  5. میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا
  6. ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا
  7. یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا
  8. نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گا
  9. تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جا
  10. دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا

ردیف ب

  1. مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریب

ردیف ث

  1. میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعث

ردیف ر

  1. مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کر

ردیف ز

  1. تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پرواز
  2. دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمز

ردیف ش

  1. دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوش

ردیف ظ

  1. پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ

ردیف ق

  1. نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حق

ردیف ن

  1. خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیں
  2. تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دن

ردیف و

  1. کس سے احوال کہوں اپنا میں اے یار کہ تو
  2. دکھلا دو نقش پائے رسول امین کو

ردیف ی

  1. پوچھی نہ خبر کبھی ہماری
  2. جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی
  3. بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی
  4. چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی
  5. ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری
  6. آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے
  7. سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے
  8. دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہے
  9. باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے
  10. کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے
  11. نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے
  12. ذات اس کی کوئی عجب شے ہے
  13. غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے
  14. محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
  15. غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے