کلیات وفا (۱۹۲۳)

ردیف الف

  1. نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپنا
  2. دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھا
  3. وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیا
  4. بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیا
  5. ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا
  6. پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرا

ردیف ر

  1. کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کر

ردیف س

  1. کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاس

ردیف و

  1. ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھو

ردیف ہ

  1. حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہ

ردیف ی

  1. دل میں رہ کر چھپا کرے کوئی
  2. پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئی
  3. بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنے