غزل

ردیف الف

  1. ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں

ردیف ن

  1. وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

ردیف و

  1. نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو
  2. جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

ردیف ی

  1. چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
  2. خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے
  3. غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے
  4. مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے