ایاغ بزم (۱۹۲۷)

ردیف الف

  1. مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا
  2. کوئی نادان نہ دانا اچھا
  3. یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتا

ردیف ر

  1. یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر

ردیف ن

  1. عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میں

ردیف و

  1. عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لو

ردیف ی

  1. کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھی