دیوان
اب
خط
نسخ
نستعلیق
نسخ کی موٹائی
حروف کا سائز
رنگ
سپیا
فیروزی
نیلگوں
سبز
گلابی
ہندسے
١٢٣ مشرقی
123 مغربی
روشنی
روشن
تاریک
خودکار
عاشق اکبرآبادی
غزل
غزل
محفوظ کریں
ردیف الف
کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا
روز دینے لگے آزار یہ کیا
ردیف ک
رہی ان کی چین جبیں دیر تک
ردیف م
جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہم
ردیف ن
لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں
داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوں
وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں
گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں
ردیف و
نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو
ردیف ھ
گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ
ردیف ی
اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی
ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی
ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کی
فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے
تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے
ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئے
فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہے
ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے
معنی
ذخیرۂ الفاظ
محفوظ کریں
نوٹ
تلاش
کاپی
شیئر
گوگل
ہاں
نہیں