غزل

ردیف الف

  1. کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا
  2. روز دینے لگے آزار یہ کیا

ردیف ک

  1. رہی ان کی چین جبیں دیر تک

ردیف م

  1. جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہم

ردیف ن

  1. لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں
  2. داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوں
  3. وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں
  4. گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں

ردیف و

  1. نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو

ردیف ھ

  1. گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ

ردیف ی

  1. اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی
  2. ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی
  3. ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کی
  4. فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے
  5. تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے
  6. ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئے
  7. فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہے
  8. ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے