غزل
ردیف الف
ردیف ت
ردیف ر
ردیف ل
ردیف ن
- چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
- کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں
- ہم بن غم یار بھی جئے ہیں
- سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں
- شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیں
ردیف و
ردیف ھ
ردیف ی
- مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی
- گل کی خونیں جگری یاد آئی
- یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے
- عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے
- گردش جام نہیں رک سکتی
- ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے
- دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے
- یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے
- نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہے
- جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہے
- ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچے
- دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچے
- نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئے
- کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھے
- دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے
- زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے
- صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے
- وہ کسی پر جفا نہیں کرتے