غزل

ردیف الف

  1. واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
  2. غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھا
  3. محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکا

ردیف ت

  1. دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی رات

ردیف ر

  1. گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھ

ردیف ل

  1. چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل
  2. آئی سحر قریب تو میں نے پڑھی غزل
  3. اپنی تجلیوں سے معمور ہو گئے ہم

ردیف ن

  1. چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
  2. کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں
  3. ہم بن غم یار بھی جئے ہیں
  4. سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں
  5. شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیں

ردیف و

  1. کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہار
  2. یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو

ردیف ھ

  1. دل کا معاملہ نگۂ آشنا کے ساتھ

ردیف ی

  1. مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی
  2. گل کی خونیں جگری یاد آئی
  3. یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے
  4. عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے
  5. گردش جام نہیں رک سکتی
  6. ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے
  7. دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے
  8. یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے
  9. نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہے
  10. جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہے
  11. ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچے
  12. دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچے
  13. نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئے
  14. کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھے
  15. دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے
  16. زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے
  17. صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے
  18. وہ کسی پر جفا نہیں کرتے