غزل
ردیف الف
- دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا
- چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتا
- یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملا
- ترا بے مدعا مانگے دعا کیا
- اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتا
- دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا
- وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا
- پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا
- کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیا
- شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیا
- دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا
- چھوڑ ہر ایک کو برا کہنا
- نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتنا
- نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دینا
- خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا
ردیف ر
ردیف ش
ردیف گ
ردیف م
ردیف ن
- دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں
- خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میں
- کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں
- جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں
- سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میں
- بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میں
- تیرے قول و قرار کی باتیں
- اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں
ردیف و
ردیف ی
- اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیری
- درد فرقت کو کیا کرے کوئی
- یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھی
- جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہی
- جب ترا انتظار ہوتا ہے
- عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہے
- عشق الزام بھی تو ہوتا ہے
- وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے
- بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے
- شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے
- رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہے