غزل
ردیف الف
- میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا
- دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کا
- گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہونا
- نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا
- جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا
- تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہوا
- کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتا
- گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگا
- بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا
ردیف ر
ردیف ن
- کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں
- ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں
- وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیں
- کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں
- مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں
- جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں
- ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیں
- رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں
ردیف و
- کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو
- وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو
- جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو
ردیف ی
- دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی
- دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئی
- ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میری
- آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گی
- میں جو مر جاؤں عجب عالم رہے
- پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے
- اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے
- ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتے
- حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہے
- سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے
- چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے