غزل

ردیف الف

  1. میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا
  2. دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کا
  3. گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہونا
  4. نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا
  5. جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا
  6. تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہوا
  7. کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتا
  8. گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگا
  9. بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا

ردیف ر

  1. عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پر
  2. کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکر

ردیف ن

  1. کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں
  2. ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں
  3. وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیں
  4. کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں
  5. مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں
  6. جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں
  7. ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیں
  8. رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں

ردیف و

  1. کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو
  2. وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو
  3. جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو

ردیف ی

  1. دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی
  2. دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئی
  3. ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میری
  4. آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گی
  5. میں جو مر جاؤں عجب عالم رہے
  6. پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے
  7. اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے
  8. ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتے
  9. حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہے
  10. سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے
  11. چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے