غزل

ردیف الف

  1. یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا
  2. یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا
  3. یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا
  4. یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا
  5. واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا
  6. الفت سے ہو خاک ہم کو لہنا
  7. تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا
  8. شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا
  9. سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا
  10. رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا
  11. رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا
  12. نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا
  13. نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا
  14. مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا
  15. کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا
  16. کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا
  17. کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا
  18. کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا
  19. کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا
  20. کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا
  21. جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا
  22. جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا
  23. جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا
  24. جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آ
  25. حسن اے جان نہیں رہنے کا
  26. ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا
  27. گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا
  28. گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا
  29. غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا
  30. گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا
  31. دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا
  32. دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا
  33. در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا
  34. چھیڑنے ہم کو یار آج آیا
  35. بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا
  36. بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھا
  37. برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا
  38. عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا
  39. اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا

ردیف ب

  1. تیغ بران نکالو صاحب
  2. درپئے عمر رفتہ ہوں یا رب

ردیف ت

  1. بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات

ردیف ج

  1. دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج

ردیف ر

  1. واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر
  2. سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر
  3. لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر
  4. جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظر
  5. جو روئیں درد دل سے تلملا کر
  6. ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پر
  7. بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر
  8. بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار
  9. اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر
  10. اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور

ردیف ڑ

  1. سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑ

ردیف ق

  1. ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرق

ردیف م

  1. تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم
  2. پروا نہیں اس کو اور موئے ہم
  3. مثل آئینہ با صفا ہیں ہم
  4. جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
  5. بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم

ردیف ن

  1. یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں
  2. یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں
  3. وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں
  4. سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں
  5. شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوں
  6. میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوں
  7. کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوں
  8. کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن
  9. جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں
  10. ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں
  11. ہے تیری ہی کائنات جی میں
  12. گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں
  13. درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں
  14. دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں
  15. بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں

ردیف و

  1. صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کو
  2. اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو
  3. اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو

ردیف ی

  1. ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھے