غزل
ردیف الف
- یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا
- یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا
- یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا
- یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا
- واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا
- الفت سے ہو خاک ہم کو لہنا
- تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا
- شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا
- سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا
- رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا
- رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا
- نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا
- نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا
- مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا
- کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا
- کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا
- کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا
- کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا
- کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا
- کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا
- جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا
- جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا
- جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا
- جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آ
- حسن اے جان نہیں رہنے کا
- ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا
- گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا
- گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا
- غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا
- گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا
- دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا
- دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا
- در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا
- چھیڑنے ہم کو یار آج آیا
- بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا
- بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھا
- برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا
- عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا
- اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ج
ردیف ر
- واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر
- سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر
- لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر
- جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظر
- جو روئیں درد دل سے تلملا کر
- ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پر
- بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر
- بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار
- اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر
- اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
ردیف ڑ
ردیف ق
ردیف م
- تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم
- پروا نہیں اس کو اور موئے ہم
- مثل آئینہ با صفا ہیں ہم
- جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
- بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم
ردیف ن
- یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں
- یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں
- وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں
- سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں
- شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوں
- میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوں
- کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوں
- کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن
- جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں
- ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں
- ہے تیری ہی کائنات جی میں
- گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں
- درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں
- دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں
- بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں
ردیف و
- صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کو
- اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو
- اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو