غزل

ردیف الف

  1. نہ کہو اعتبار ہے کس کا
  2. کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا
  3. کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا
  4. دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا

ردیف ر

  1. دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

ردیف ی

  1. رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے
  2. کون برہم ہے زلف جاناں سے
  3. فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے
  4. بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے