غزل
ردیف الف
- آگ کے درمیان سے نکلا
- دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا
- سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤ
- وہی جھکی ہوئی بیلیں وہی دریچہ تھا
- وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
- بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا
- خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا
- مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا
- مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
- گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
- بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا
- غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
- ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا
ردیف ت
ردیف ر
ردیف غ
ردیف گ
ردیف ن
- دشت و صحرا اگر بسائے ہیں
- دوستی کا فریب ہی کھائیں
- میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
- خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
- غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
- جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
- کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمت
- بے جا نوازشات کا بار گراں نہیں
- بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں
- ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں
ردیف و
- مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو
- پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
- خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو
- گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو
ردیف ھ
ردیف ی
- کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
- شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی
- آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی
- کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
- جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی
- آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
- جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
- کوئی اس دل کا حال کیا جانے
- دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہے
- اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے
- جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
- کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
- خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے
- تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھے
- نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے
- غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہے
- موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے
- پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
- سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
- یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہے
- اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
- اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
- کیا چیز ہے یہ سعئ پیہم کیا جذبۂ کامل ہوتا ہے
- رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
- موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئے