غزل

ردیف الف

  1. آگ کے درمیان سے نکلا
  2. دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا
  3. سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤ
  4. وہی جھکی ہوئی بیلیں وہی دریچہ تھا
  5. وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
  6. بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا
  7. خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا
  8. مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا
  9. مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
  10. گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
  11. بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا
  12. غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
  13. ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا

ردیف ت

  1. وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

ردیف ر

  1. درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
  2. ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
  3. میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور

ردیف غ

  1. روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ

ردیف گ

  1. عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگ

ردیف ن

  1. دشت و صحرا اگر بسائے ہیں
  2. دوستی کا فریب ہی کھائیں
  3. میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
  4. خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
  5. غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
  6. جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
  7. کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمت
  8. بے جا نوازشات کا بار گراں نہیں
  9. بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں
  10. ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں

ردیف و

  1. مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو
  2. پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
  3. خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو
  4. گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو

ردیف ھ

  1. مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

ردیف ی

  1. کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
  2. شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی
  3. آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی
  4. کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
  5. جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی
  6. آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
  7. جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
  8. کوئی اس دل کا حال کیا جانے
  9. دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہے
  10. اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے
  11. جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
  12. کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
  13. خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے
  14. تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھے
  15. نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے
  16. غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہے
  17. موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے
  18. پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
  19. سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
  20. یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہے
  21. اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
  22. اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
  23. کیا چیز ہے یہ سعئ پیہم کیا جذبۂ کامل ہوتا ہے
  24. رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
  25. موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئے