غزل
ردیف الف
- ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا
- دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا
- بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برا
- ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیا
- جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا
- دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا
- تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا