غزل

ردیف الف

  1. ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا
  2. دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا
  3. بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برا
  4. ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیا
  5. جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا
  6. دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا
  7. تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا

ردیف ر

  1. روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کر
  2. فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیر

ردیف ی

  1. مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہے
  2. تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہے
  3. لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے
  4. وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہے