دیوان شرف مجددی (۱۹۳۷)

ردیف الف

  1. تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا
  2. ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا
  3. دل کو یوں لے جانے والا کون تھا
  4. گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا

ردیف ت

  1. آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست

ردیف ر

  1. ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر
  2. اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر

ردیف ن

  1. پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں
  2. دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں
  3. چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں
  4. ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں

ردیف و

  1. تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کو

ردیف ی

  1. اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی
  2. نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے
  3. روک دے موت کو بھی آنے سے
  4. کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے
  5. کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہے