غزل
ردیف الف
- عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا
- سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیا
- اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوا
- دنیا دیکھی زمانہ دیکھا
- ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتا
- محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرا
- شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسا
- کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیا
- نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیا
- تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھا
- خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جدا
- کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرا
ردیف ت
ردیف ض
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ن
- ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیں
- موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیں
- ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میں