بہ دیوان آثم (۱۸۶۶)

ردیف الف

  1. بے خودی میں عجب مزا دیکھا
  2. اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتا
  3. مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیا

ردیف ٹ

  1. لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹ

ردیف ز

  1. سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آواز

ردیف ط

  1. ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط

ردیف غ

  1. دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغ

ردیف ق

  1. ہے فنا بسم اللہ دیوان عشق

ردیف ک

  1. کوئی دم تھمتا نہیں باران اشک

ردیف گ

  1. اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگ

ردیف م

  1. شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم

ردیف ن

  1. کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں
  2. بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں
  3. کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں
  4. بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوں
  5. قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاں
  6. عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیں
  7. ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں

ردیف و

  1. افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دو

ردیف ی

  1. عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھے
  2. عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہے
  3. اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہے