غزل

ردیف الف

  1. پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا
  2. شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوا
  3. دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا
  4. عشق میں زور عمر بھر مارا
  5. گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا
  6. سدا رنگ مینا چمکتا رہا
  7. دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایا

ردیف چ

  1. عشق رخ و زلف میں کیا کوچ

ردیف ر

  1. گوش کر فریاد عاشق جان کر
  2. اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر
  3. سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر
  4. ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر
  5. کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور
  6. کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر

ردیف ڑ

  1. ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ

ردیف س

  1. شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوس

ردیف ظ

  1. بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ

ردیف ف

  1. ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف
  2. اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف

ردیف گ

  1. ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ

ردیف م

  1. جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم

ردیف ن

  1. یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں
  2. لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں
  3. تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں
  4. خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں
  5. ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں
  6. ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میں

ردیف و

  1. بوسہ زلف دوتا کا دو
  2. وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو
  3. نظروں سے گلوں کی نونہالو
  4. اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو
  5. جی جاؤں جو بند ناطقہ ہو

ردیف ی

  1. دل کی کہوں یا کہوں جگر کی
  2. ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی
  3. ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی
  4. ذرا دیکھنا خاکساری ہماری
  5. وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی
  6. لب جاں بخش پر جو نالہ ہے
  7. غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے
  8. جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے
  9. کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے
  10. قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے
  11. دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتے
  12. تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے
  13. خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے
  14. خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے
  15. لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہے
  16. جان یا دل نذر کرنا چاہئے
  17. جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے
  18. میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے
  19. جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے
  20. شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے