غزل
ردیف الف
- پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا
- شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوا
- دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا
- عشق میں زور عمر بھر مارا
- گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا
- سدا رنگ مینا چمکتا رہا
- دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایا
ردیف چ
ردیف ر
- گوش کر فریاد عاشق جان کر
- اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر
- سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر
- ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر
- کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور
- کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر
ردیف ڑ
ردیف س
ردیف ظ
ردیف ف
ردیف گ
ردیف م
ردیف ن
- یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں
- لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں
- تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں
- خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں
- ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں
- ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میں
ردیف و
- بوسہ زلف دوتا کا دو
- وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو
- نظروں سے گلوں کی نونہالو
- اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو
- جی جاؤں جو بند ناطقہ ہو
ردیف ی
- دل کی کہوں یا کہوں جگر کی
- ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی
- ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی
- ذرا دیکھنا خاکساری ہماری
- وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی
- لب جاں بخش پر جو نالہ ہے
- غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے
- جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے
- کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے
- قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے
- دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتے
- تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے
- خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے
- خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے
- لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہے
- جان یا دل نذر کرنا چاہئے
- جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے
- میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے
- جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے
- شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے