غزل
ردیف الف
- تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا
- محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا
- کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھا
- بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا
ردیف ت
ردیف ث
ردیف ر
ردیف ص
ردیف ط
ردیف ن
- وہ جب آپ سے اپنا پردا کریں
- وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں
- رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں
- لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں
- کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیں
- کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں
- دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیں
- اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں
- عاشق حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیں