غزل

ردیف الف

  1. تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا
  2. محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا
  3. کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھا
  4. بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا

ردیف ت

  1. تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام رات
  2. ہم نے سو سو طرح بنائی بات

ردیف ث

  1. جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعث
  2. جاں فشانی کا واں حساب عبث

ردیف ر

  1. مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دور

ردیف ص

  1. ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقص

ردیف ط

  1. میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط
  2. بے دیے لے اڑا کبوتر خط

ردیف ن

  1. وہ جب آپ سے اپنا پردا کریں
  2. وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں
  3. رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں
  4. لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں
  5. کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیں
  6. کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں
  7. دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیں
  8. اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں
  9. عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیں

ردیف ی

  1. قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی
  2. اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے
  3. ہم ان کی نظر میں سمانے لگے
  4. ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہے