چمنستان فصاحت (۱۹۴۰)

ردیف الف

  1. مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھا
  2. کروں کس سے فریاد کیا ہو گیا
  3. دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھا

ردیف ت

  1. تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام رات

ردیف س

  1. وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوس

ردیف ک

  1. عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تک

ردیف ی

  1. کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتے
  2. چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والے
  3. درد دل اپنا سنانا چاہئے
  4. تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہے
  5. پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے