غزل

ردیف الف

  1. ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا

ردیف ی

  1. نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی
  2. کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ
  3. انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے
  4. بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے