سید احمد خان

۱۲۳۲ – ۱۳۱۶ ھ · ۱۸۱۷ – ۱۸۹۸ ء

احمد خان متقی بن محمد متقی (۱۷ اکتوبر ۱۸۱۷ء – ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔ انھوں نے ۱۸۳۸ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور ۱۸۶۷ء وہ چھوٹے مقدمات کے لیے جج مقرر کیے گئے۔ ۱۸۷۶ء میں وہ ملازمت سے مستعفی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے دوران میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے وفادار رہے اور یورپیوں کی جانیں بچانے میں ان کے کردار کی سلطنت برطانیہ کی طرف سے ستائش کی گئی۔ بغاوت ختم ہونے کے بعد انھوں نے اسباب بغاوت ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں ہندوستان کی رعایا کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا۔ اس رسالہ کا فائدہ سلطنت برطانیہ کو ہوا جس نے اس کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی سے برصغیر کا تمام قبضہ لے لیا اور ہندوستان کے تمام معاملات براہ راست اپنے قبضہ میں لے لیے۔ مسلمانوں کے راسخ الاعتقاد طرز کو ان کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے سرسید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا اپنے کلامی مکتبِ فکر کی بنیاد ڈالی جو معتزلہ کے افکار کا چربہ تھا مگر اس کے کلامی نظریات مقبول نہ ہو سکے اس لیے صرف سائنسی علوم کی اشاعت تک محدود رہا۔ ۱۸۵۹ء میں سر سید نے مرادآباد میں گلشن اسکول، ۱۸۶۳ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور ۱۸۶۴ء میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔ ۱۸۷۵ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج جو جنوبی ایشیا میں پہلی مسلم یونیورسٹی بنا۔ انھوں نے بار بار مسلمانوں کو سلطنت برطانیہ سے وفاداری پر زور دیا اور تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اردو کو بطور زبانِ رابطۂ عامہ اپنانے کو کہا۔ برطانوی وفاداریوں کے سبب انھیں انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سر سید کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اکثر دو قومی نظریہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے دوقومی نظریے کو سترہویں صدی کے غیر اہم کردار حضرت مجدد الف ثانی کو قرار دیتے ہیں۔ جس کا کوئی ٹھوس علمی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اثر اور متاثر کی اتنی نسبت ہے جتنی کہ سکندراعظم اور نپولین میں موجود ہو سکتی ہے۔ سر سید کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کے لیے عقلیت پسند (معتزلہ) روایت کی وکالت نے عالمی طور پر اسلامی اصلاح پسندی کو متاثر کیا اور ناقابل تلافی نقصان دیا۔ پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں۔

تصویر: Public domain · ویکی میڈیا کامنز

مضمون۲۰ای بکس