غزل

ردیف ی

  1. اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابی
  2. جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہے
  3. اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہے
  4. خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دے
  5. دو عالم کے آفات سے دور کر دے
  6. شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئے