غزل
ردیف الف
- چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا
- اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کا
- کیا ضرورت بے ضرورت دیکھنا
- باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا
- اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا
- کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا
- جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا
- نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا
ردیف ر
ردیف ن
- سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں
- عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں
- سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میں
- تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیں