غزل
ردیف الف
ردیف ر
ردیف ع
ردیف غ
ردیف ن
- تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں
- تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں
- رہتا ہے کب اک روش پر آسماں
- کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیں
- کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں
- جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیں
- الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- وسعت بحر عشق کیا کہیے
- ان بتوں سے ربط توڑا چاہئے
- رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے
- ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے
- مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سے
- کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے
- کالی کالی گھٹا برستی ہے
- جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے
- ہیں بہت دیکھے چاہنے والے
- بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے