غزل

ردیف الف

  1. نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیا
  2. میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھی

ردیف ر

  1. آ کدھر ہے تو ساقیٔ مخمور

ردیف ع

  1. رونق عہد جوانی الوداع

ردیف غ

  1. دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغ

ردیف ن

  1. تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں
  2. تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں
  3. رہتا ہے کب اک روش پر آسماں
  4. کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیں
  5. کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں
  6. جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیں
  7. الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں

ردیف و

  1. بوسہ دیتے ہو اگر تم مجھ کو دو دو سب کے دو
  2. اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہو

ردیف ہ

  1. کی مے سے ہزار بار توبہ

ردیف ی

  1. وسعت بحر عشق کیا کہیے
  2. ان بتوں سے ربط توڑا چاہئے
  3. رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے
  4. ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے
  5. مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سے
  6. کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے
  7. کالی کالی گھٹا برستی ہے
  8. جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے
  9. ہیں بہت دیکھے چاہنے والے
  10. بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے