غزل
ردیف الف
- ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
- عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیا
- ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا
ردیف ر
ردیف ن
- اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
- ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوں
- پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاں
- اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
- اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں
- موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں
- شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں
- ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں
- اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں