غزل

ردیف الف

  1. ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
  2. عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیا
  3. ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا

ردیف ر

  1. شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اور

ردیف ن

  1. اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
  2. ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوں
  3. پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاں
  4. اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
  5. اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں
  6. موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں
  7. شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں
  8. ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں
  9. اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں

ردیف و

  1. میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو

ردیف ھ

  1. عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ

ردیف ی

  1. لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سے
  2. کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے
  3. یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
  4. در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچے
  5. ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے
  6. دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
  7. بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے
  8. سب ماسوائے عشق فریب سراب ہے
  9. رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سے