غزل

ردیف الف

  1. یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا
  2. ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا
  3. تم اگر دو نہ پیرہن اپنا
  4. رخ پر ہے ملال آج کیسا
  5. پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا
  6. ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا
  7. دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا

ردیف ب

  1. رخ روشن دکھائیے صاحب

ردیف پ

  1. سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپ

ردیف ت

  1. نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات
  2. گفتگو ہو دبی زبان بہت
  3. دولہن بھی اگر بن کے آئے گی رات

ردیف ح

  1. پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرح

ردیف خ

  1. عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

ردیف د

  1. بام پر آتا ہے ہمارا چاند

ردیف ذ

  1. چشم مے گوں وہاں شراب لذیذ

ردیف ظ

  1. عشق ہے یار کا خدا حافظ

ردیف ن

  1. قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں
  2. منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں
  3. ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں
  4. بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیں
  5. اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں

ردیف و

  1. ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کو

ردیف ی

  1. رخ روشن پہ صفا لوٹ گئی
  2. ہم پہ جور و ستم کے کیا معنی
  3. زلف شب رنگ جو بنائی ہے
  4. یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے
  5. قاصد ترے بار بار آئے
  6. نسبت وہی ماہ آسماں سے
  7. ماہ نو پردۂ سحاب میں ہے
  8. جی جائے مگر نہ وہ پری جائے
  9. گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے
  10. دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے
  11. دم یار تا نزع بھر لیجئے