غزل
ردیف الف
- یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا
- ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا
- تم اگر دو نہ پیرہن اپنا
- رخ پر ہے ملال آج کیسا
- پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا
- ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا
- دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا
ردیف ب
ردیف پ
ردیف ت
ردیف ح
ردیف خ
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ظ
ردیف ن
- قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں
- منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں
- ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں
- بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیں
- اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں