سجاد حیدر یلدرم
۱۲۹۷ – ۱۳۶۲ ھ · ۱۸۸۰ – ۱۹۴۳ ء
سجاد حیدر یلدرم ۱۸۸۰ء میں ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ اور ابتدائی تعلیم بنارس میں حاصل کی۔ یہاں ان کے والد سید جلال الدین سرکاری ملازم تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۸۹۳ میں سر سید احمد خان کے اسکول مدرستہ العلوم علی گڑھ کی نویں جماعت میں داخلہ لیا یلدرم نے ایم۔ اے۔ او کالج علی گڑھ سے ۱۹۰۱ء میں بی اے کیا۔ بی اے کرنے کے بعد انھیں ناگپور کے حکمران اعظم شاہ کا اتالیق مقرر کر دیا گیا کچھ عرصہ بعد انھیں حکومت وقت نے مزید تعلیم کے لیے دوبارہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیا یلدرم کو ترکی زبان اور ترکوں سے بڑی محبت تھی۔ جب بغداد کے برطانوی قونصل خانہ میں ترکی ترجمان کی ضرورت ہوئی تو آپ وہاں چلے گئے۔ اب یلدرم کو ترکی ادبیات کے مطالعہ کا موقع ملا چنانچہ انھوں نے بہت سی ترکی کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا اور اس طرح اردو نثر میں ایک نئے اسلوب کا اضافہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد یلدرم بغداد سے تبدیل ہو کر قسطنطنیہ کے برطانوی سفارت خانے میں چلے گئے پہلی جنگ عظیم چھڑنے سے پہلے وہ امیر کابل کے نائب سیاسی ایجنٹ ہو کر ہندوستان واپس چلے آئے۔ یوپی میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے رجسٹرار مقرر ہوئے ڈپٹی کلکٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ۱۹۴۳ء میں لکھنؤ میں وفات پائی اور قبرستان عیش باغ میں دفن ہوئے۔ مشہور ادیب اور ناول نگار قراۃ العین حیدر آپ کی صاحبزادی ہیں۔ سجاد حیدر یلدرم کے افسانوں اور انشائیوں کا مجموعہ خیالستان اردو ادب میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یوں تو انھوں نے شاعری بھی کی، مضمون بھی لکھے لیکن ان کا نام ایک رومانوی افسانہ نگار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رہے گا۔ وہ اردو کے پہلے افسانہ نگار تسلیم کیے جائے ہیں۔
تصویر: Public domain · ویکی میڈیا کامنز