غزل

ردیف الف

  1. وجود اب مرا لا فنا ہو گیا
  2. کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا
  3. کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیا
  4. جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا
  5. حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہوا
  6. گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھا
  7. دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہونا

ردیف ب

  1. جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب

ردیف ٹ

  1. اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹ

ردیف ح

  1. دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاح

ردیف د

  1. چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آباد

ردیف ر

  1. جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پر

ردیف ڑ

  1. درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑ
  2. بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑ

ردیف ص

  1. تقوے کے لئے جنت‌ و کوثر ہوئے مخصوص

ردیف ف

  1. دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلاف

ردیف ک

  1. ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاک
  2. چار عنصر سے بنا ہے جسم پاک

ردیف گ

  1. دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگ

ردیف ن

  1. ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں
  2. صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیں
  3. نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میں

ردیف و

  1. عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہو

ردیف ہ

  1. سر عرش بریں ہے زیر پائے‌ پیر میخانہ

ردیف ی

  1. فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری
  2. رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسے
  3. رسوائے عشق ہے ترا شیدا کہیں جسے
  4. نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے
  5. مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیے
  6. جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہے