غزل
ردیف الف
- وجود اب مرا لا فنا ہو گیا
- کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا
- کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیا
- جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا
- حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہوا
- گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھا
- دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہونا
ردیف ب
ردیف ٹ
ردیف ح
ردیف د
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف ص
ردیف ف
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ن
- ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں
- صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیں
- نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میں