غزل

ردیف الف

  1. حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا

ردیف ر

  1. زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پر
  2. ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

ردیف ن

  1. وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
  2. بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میں

ردیف و

  1. اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کو
  2. سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تو

ردیف ہ

  1. خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالا

ردیف ی

  1. ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی
  2. امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دی
  3. محبت میں جینا نئی بات ہے
  4. جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے
  5. ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے