غزل
ردیف الف
- ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا
- اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا
- اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا
- زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا
- ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیا
- نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میرا
- نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا
- کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا
- رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیا
- کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنا
- ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا
ردیف پ
ردیف ت
ردیف ر
- وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر
- کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کر
- در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمر
ردیف ش
ردیف ک
ردیف ن
ردیف و
ردیف ی
- سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری
- تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری
- آہ کو جو کہوں برائی کی
- ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی
- جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے
- مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے
- ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے
- میرے دل کو بٹھا دیا کس نے
- کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے
- اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے
- کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے