غزل

ردیف الف

  1. ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا
  2. اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا
  3. اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا
  4. زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا
  5. ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیا
  6. نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میرا
  7. نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا
  8. کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا
  9. رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیا
  10. کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنا
  11. ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا

ردیف پ

  1. یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ

ردیف ت

  1. رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام رات

ردیف ر

  1. وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر
  2. کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کر
  3. در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمر

ردیف ش

  1. ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش

ردیف ک

  1. تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تک
  2. قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاک

ردیف ن

  1. سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں
  2. ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں

ردیف و

  1. سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہو

ردیف ی

  1. سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری
  2. تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری
  3. آہ کو جو کہوں برائی کی
  4. ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی
  5. جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے
  6. مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے
  7. ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے
  8. میرے دل کو بٹھا دیا کس نے
  9. کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے
  10. اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے
  11. کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے