غزل

ردیف الف

  1. سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا
  2. آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا
  3. دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا
  4. اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا
  5. زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا
  6. تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا
  7. یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ
  8. عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا
  9. ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا
  10. توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا

ردیف پ

  1. آج انکار نہ فرمائیے آپ

ردیف ت

  1. قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت

ردیف ز

  1. اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز

ردیف ق

  1. نہیں قول سے فعل تیرے مطابق

ردیف ن

  1. گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

ردیف و

  1. چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو
  2. رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو

ردیف ہ

  1. چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ

ردیف ی

  1. منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
  2. مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی
  3. الفت نہ کروں گا اب کسی کی
  4. صدمے گزرے ایذا گزری
  5. نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری
  6. خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے
  7. زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے
  8. جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے
  9. حیران سی ہے بھچک رہی ہے
  10. ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
  11. کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے
  12. مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے
  13. نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے
  14. چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے
  15. وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے
  16. تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے
  17. دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے
  18. دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے