غزل
ردیف الف
- سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا
- آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا
- دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا
- اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا
- زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا
- تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا
- یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ
- عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا
- ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا
- توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا
ردیف پ
ردیف ت
ردیف ز
ردیف ق
ردیف ن
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
- مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی
- الفت نہ کروں گا اب کسی کی
- صدمے گزرے ایذا گزری
- نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری
- خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے
- زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے
- جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے
- حیران سی ہے بھچک رہی ہے
- ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
- کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے
- مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے
- نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے
- چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے
- وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے
- تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے
- دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے
- دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے