نہیں کام آتی محبت کسی کی
ردیف: کسی کی
نہیں کام آتی محبت کسی کی
نہ آئے کسی پر طبیعت کسی کی
کوئی کیا کرے گردش آسماں کو
ہمیں کب گوارا ہے ذلت کسی کی
بڑی یہ بلا ہے محبت خدایا
نہ آئے کسی پر طبیعت کسی کی
یہ کہتے نہ تھے تم سے پہلے ہی سیفیؔ
نہیں کام آتی محبت کسی کی