غزل

ردیف الف

  1. وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا
  2. ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا
  3. دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا
  4. اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا

ردیف ت

  1. ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست

ردیف ن

  1. ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں
  2. گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں
  3. گردش چشم ہے پیمانے میں
  4. جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں

ردیف و

  1. مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہو
  2. باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کو

ردیف ی

  1. بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی
  2. مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی
  3. جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی
  4. جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی
  5. نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی
  6. ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے
  7. شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے
  8. دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے
  9. جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے
  10. شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے
  11. آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے
  12. جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے
  13. اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے
  14. ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے
  15. خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے
  16. دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے
  17. تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے
  18. ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے
  19. ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے
  20. عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے
  21. راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتے
  22. سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے
  23. جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے
  24. کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے
  25. نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے
  26. سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے