غزل
ردیف الف
- وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا
- ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا
- دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا
- اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا
ردیف ت
ردیف ن
- ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں
- گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں
- گردش چشم ہے پیمانے میں
- جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں
ردیف و
ردیف ی
- بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی
- مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی
- جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی
- جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی
- نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی
- ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے
- شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے
- دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے
- جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے
- شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے
- آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے
- جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے
- اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے
- ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے
- خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے
- دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے
- تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے
- ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے
- ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے
- عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے
- راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتے
- سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے
- جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے
- کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے
- نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے
- سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے