نقشہاے رنگ رنگ (۱۹۲۹)

ردیف الف

  1. خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہارا
  2. نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہوا
  3. آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیا
  4. سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیا

ردیف ن

  1. تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیں
  2. طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیں

ردیف و

  1. اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو

ردیف ھ

  1. آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ

ردیف ی

  1. ہر زباں پر ہے گفتگو تیری
  2. دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہے