غزل

ردیف الف

  1. وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کا
  2. شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کا
  3. حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھا

ردیف ت

  1. اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی رات

ردیف د

  1. دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعد

ردیف ظ

  1. کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظ

ردیف ن

  1. دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیں

ردیف و

  1. زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہو

ردیف ی

  1. کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہے
  2. ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہے
  3. خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہے
  4. یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلے