غزل

ردیف الف

  1. اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا
  2. اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا
  3. پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا

ردیف ک

  1. بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک

ردیف م

  1. تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم

ردیف ن

  1. جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں

ردیف ی

  1. کوچہ گردی میں جوانی جائے گی
  2. کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی
  3. ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے
  4. حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے
  5. مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے
  6. مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے