غزل
ردیف الف
- تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
- غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
- لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
- عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
- اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
- خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
- غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
- کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
- وہ زمانہ نظر نہیں آتا
- تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ
- ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا
- عذر ان کی زبان سے نکلا
- ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
- جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
- ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
- باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
- اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا
- دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا
- منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا
- آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا
- عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتا
- وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا
- سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیا
- ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہارا
- چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیا
- پھر دیکھتے عیش آدمی کا
- تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا
- غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیا
- فتنہ گر کیا مکان سے نکلا
- گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا
- شوق ہے اس کو خود نمائی کا
- دل مکدر مدام کا نکلا
- یوں وہ پیغام سے تو آئے گا
ردیف ب
- دل ناکام کے ہیں کام خراب
- کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلب
- نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جواب
- میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے اب
- بزم سے آخر شب ہے سفر جام شراب
ردیف پ
ردیف ت
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف د
ردیف ر
- پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر
- کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کر
- مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر
- اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
- یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر
ردیف س
ردیف ع
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
- ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
- غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم
- ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم
- محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہم
- چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہم
- رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہم
ردیف ن
- عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
- بات میری کبھی سنی ہی نہیں
- سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
- اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
- تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
- بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
- دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
- فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
- تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
- ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
- زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
- صاف کب امتحان لیتے ہیں
- اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
- ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
- مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں
- جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
- بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں
- محبت میں آرام سب چاہتے ہیں
- شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں
- بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
- کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں
- جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
- چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں
- بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیں
- کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
- کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میں
- راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
- دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں
- جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیں
- کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
- مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
- تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلیٰ کے کالے ہاتھ پاؤں
- پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میں
- کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمن
- سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوں
ردیف و
- کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
- ممکن نہیں کہ تیری محبت کی بو نہ ہو
- جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
- کیا چاک کیا تو نے مری جاں مرے دل کو
- اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کو
- دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبرو
- سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کو
- عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہو
- پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہو
ردیف ہ
ردیف ی
- آرزو ہے وفا کرے کوئی
- رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
- دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
- ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی
- شب وصل ضد میں بسر ہو گئی
- اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتی
- یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئی
- ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کی
- گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گی
- ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی
- وصل کی آرزو کئے نہ بنی
- طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی
- نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہی
- غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہی
- سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
- طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھی
- آپ کا اعتبار کون کرے
- ناروا کہئے ناسزا کہئے
- ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
- پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
- لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
- کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
- دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
- اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے
- سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
- دل چرا کر نظر چرائی ہے
- یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
- دل پریشان ہوا جاتا ہے
- ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کے
- مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے
- محبت کا اثر جاتا کہاں ہے
- کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئے
- جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہے
- کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے
- اس کے در تک کسے رسائی ہے
- ہوا جب سامنا اس خوب رو سے
- نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہے
- قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے
- بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملے
- پیامی کامیاب آئے نہ آئے
- کیا طرز کلام ہو گئی ہے
- ناروا کہیے ناسزا کہیے
- مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہے
- ذکر میرا اگر آ جاتا ہے
- شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے
- غم اٹھانے کے واسطے دم ہے
- داغؔ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہے
- وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے
- ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہے
- تلوار تری رواں بہت ہے
- سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھے
- ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھے
- تیرے کوچے میں جو ہم با دیدۂ تر بیٹھتے
- اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
- شمع روشن ہے ہماری آہ سے
- جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے
- آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگے
- جب مے لالہ فام ہوتی ہے
- دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے
- قول تیرا شوق میرا چاہیئے
- خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہے
- کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سے
- میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے