غزل

ردیف الف

  1. تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
  2. غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
  3. لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
  4. عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
  5. اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
  6. خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
  7. غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
  8. کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
  9. وہ زمانہ نظر نہیں آتا
  10. تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ
  11. ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا
  12. عذر ان کی زبان سے نکلا
  13. ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
  14. جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
  15. ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
  16. باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
  17. اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا
  18. دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا
  19. منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا
  20. آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا
  21. عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتا
  22. وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا
  23. سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیا
  24. ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہارا
  25. چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیا
  26. پھر دیکھتے عیش آدمی کا
  27. تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا
  28. غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیا
  29. فتنہ گر کیا مکان سے نکلا
  30. گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا
  31. شوق ہے اس کو خود نمائی کا
  32. دل مکدر مدام کا نکلا
  33. یوں وہ پیغام سے تو آئے گا

ردیف ب

  1. دل ناکام کے ہیں کام خراب
  2. کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلب
  3. نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جواب
  4. میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے اب
  5. بزم سے آخر شب ہے سفر جام شراب

ردیف پ

  1. مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ
  2. برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئے

ردیف ت

  1. ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبت
  2. عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہت
  3. کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درست

ردیف ج

  1. جائے آسودگی کہاں ہے آج

ردیف چ

  1. غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچ

ردیف ح

  1. پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح

ردیف د

  1. دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بند

ردیف ر

  1. پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر
  2. کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کر
  3. مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر
  4. اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
  5. یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر

ردیف س

  1. آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس

ردیف ع

  1. ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمع

ردیف ف

  1. دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرف
  2. کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف

ردیف ق

  1. غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق

ردیف ک

  1. دعا مانگے دل غمگیں کہاں تک
  2. ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایک

ردیف گ

  1. کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگ

ردیف ل

  1. مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل
  2. مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل

ردیف م

  1. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
  2. غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم
  3. ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم
  4. محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہم
  5. چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہم
  6. رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہم

ردیف ن

  1. عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
  2. بات میری کبھی سنی ہی نہیں
  3. سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
  4. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
  5. تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
  6. بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
  7. دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
  8. فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
  9. تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
  10. ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
  11. زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
  12. صاف کب امتحان لیتے ہیں
  13. اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
  14. ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
  15. مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں
  16. جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
  17. بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں
  18. محبت میں آرام سب چاہتے ہیں
  19. شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں
  20. بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
  21. کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں
  22. جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
  23. چاک‌ ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں
  24. بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیں
  25. کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
  26. کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میں
  27. راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
  28. دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں
  29. جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیں
  30. کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
  31. مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
  32. تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلیٰ کے کالے ہاتھ پاؤں
  33. پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میں
  34. کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمن
  35. سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوں

ردیف و

  1. کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
  2. ممکن نہیں کہ تیری محبت کی بو نہ ہو
  3. جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
  4. کیا چاک‌ کیا تو نے مری جاں مرے دل کو
  5. اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کو
  6. دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبرو
  7. سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کو
  8. عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہو
  9. پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہو

ردیف ہ

  1. کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ

ردیف ی

  1. آرزو ہے وفا کرے کوئی
  2. رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
  3. دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
  4. ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی
  5. شب وصل ضد میں بسر ہو گئی
  6. اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتی
  7. یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئی
  8. ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کی
  9. گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گی
  10. ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی
  11. وصل کی آرزو کئے نہ بنی
  12. طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی
  13. نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہی
  14. غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہی
  15. سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
  16. طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھی
  17. آپ کا اعتبار کون کرے
  18. ناروا کہئے ناسزا کہئے
  19. ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
  20. پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
  21. لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
  22. کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
  23. دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
  24. اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے
  25. سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
  26. دل چرا کر نظر چرائی ہے
  27. یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
  28. دل پریشان ہوا جاتا ہے
  29. ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کے
  30. مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے
  31. محبت کا اثر جاتا کہاں ہے
  32. کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئے
  33. جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہے
  34. کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے
  35. اس کے در تک کسے رسائی ہے
  36. ہوا جب سامنا اس خوب رو سے
  37. نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہے
  38. قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے
  39. بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملے
  40. پیامی کامیاب آئے نہ آئے
  41. کیا طرز کلام ہو گئی ہے
  42. ناروا کہیے ناسزا کہیے
  43. مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہے
  44. ذکر میرا اگر آ جاتا ہے
  45. شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے
  46. غم اٹھانے کے واسطے دم ہے
  47. داغؔ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہے
  48. وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے
  49. ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہے
  50. تلوار تری رواں بہت ہے
  51. سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھے
  52. ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھے
  53. تیرے کوچے میں جو ہم با دیدۂ تر بیٹھتے
  54. اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
  55. شمع روشن ہے ہماری آہ سے
  56. جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے
  57. آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگے
  58. جب مے لالہ فام ہوتی ہے
  59. دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے
  60. قول تیرا شوق میرا چاہیئے
  61. خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہے
  62. کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سے
  63. میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے