غزل

ردیف الف

  1. یہی گر حسن کا عالم رہے گا
  2. جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا
  3. ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا
  4. کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگا
  5. نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیا

ردیف ی

  1. کس کی چشم مست یاد آتی رہی
  2. بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے
  3. نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے
  4. مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے